مدرسہ کی ضروریات کی نسبت سے جو حالات ذکر کئے گئے ہیں نہایت تکلیف دہ تھے ،طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد ،تعلیمی ضروریات اور ان کی روز افزوں حاجات ،دوسری طرف ہمہ وقت کی مشقت و تکالیف کا مسلسل تقاضا تھا کہ مدرسہ کی مستقل اور پختہ عمارت کا انتظام ہوجائے اسلئے کہ پھر طلبہ و اساتذہ کو رہائش میں سکون ہونے کی بنا پر کام کی سہولتیں اور صورتیں بڑھ جاتیں۔

        آٹھ سال تک برابر آزمائشی دور چلتا رہا ، اس کے بعد خدا وند کریم نے حالات بدلے ،ایک قطعہ زمین خریدی گئی اور ایک قطعہ بلا معاوضہ جامعہ کو عنایت کردی ،پہلے سال اکابر علماءکے مقدس ہاتھوں سے بارہ پختہ کمروں کی بنیاد ڈالی گئی جو بحمد اللہ ایک سال میں پایہ تکمیل کو پہنچ گئی ،دوسرے سال چھ بڑے کمرے مع بر آمدہ تیار ہو گئے ، درمیان میں ایک وسیع عمارت تیار ہو ئی جس کے اوپر ایک کمرہ بنایا گیا ،جو مہمانو ں کے لئے مخصوص تھا ،مدرسین کے چند مکانات اور بیت الخلاء وغیرہ کی تعمیر کی گئی ،ایک حصہ مطبخ کا بنا کر با قاعدہ مطبغ قائم کیا گیا تو دونوں وقت طلبہ کو خوراک ملنے لگی ،ابھی بہت سی مشکلات تھیں ،مدرسہ میں مسجد نہیں تھی ،گائوں کی مسجد مدرسہ سے دور تھی اور اس میں گنجائش بھی نہ تھی ،مدرسہ ہی میں جماعت کا انتظام کرنا پڑا ،اساتذہ کرام کے لئے درسگاہوں کا انتظام نہیں تھا ،دارالاقامہ کے برآمدوں میں تعلیم ہوتی رہی ،بالآخر مخلصین کی دعاؤں سے ایک وسیع مسجد اور چھ درسگاہیں تعمیر کی گئیں اور اب جامعہ کی مخلصانہ خدمتیں وسیع تر ہو گئیں ،طلبہ کافی بڑھ گئے جس کی وجہ سے دار الاقامہ کو مزید وسیع کرناپڑااورحفظ کی تعلیم مسجد میں اور عربی وناظرہ کی دار الاقامہ کے کمروں وبرآمدوں میں ہو تی رہی۔