جامعہ عربیہ ہتورکے قیا کی نوبت ۱۳۷۱ھ میں آئی ۔اس کے ابتدائی حالات ایسے گذرے ہیں کہ آج بھی وہ اشک بار کر دیتے ہیں ۔یہاں کام کرنے کا عزم کر لیا گیا بلکہ کام شروع کر دیا گیا ،کچھ طلبہ فتح پور سے آگئے جو درس نظامی کی کتابیں پڑھتے تھے ،کام گاؤں کے خستہ حال و سفالہ پوش مسجد میں شروع کیا گیا اور نوبت میدان میں اور درختوں کے نیچے بھی پڑھانے کی آئی ۔باہر کے طلبہ کے قیام کا مسئلہ نہایت اہم تھا ،جسے ایک مقامی بزرگ نے اپنی چوپال عنایت فرماکر حل کیا تھا ۔یہ چوپال ان کی قیام گاہ اور درسگاہ سب کچھ تھی ،پھر جب زحمتیں بڑھیں اور کچھ وسعت بھی ہوئی ،کچھ زمین بعض حضرات نے عنایت کردی اور اسپر کچی دیوار وں اورکھپریل کی عمارت تعمیر کردی گئی جس میں بارہ کرے خام اور ایک کچا بڑا حال تھا ۔جس پریشانی میں طلبہ اپنی رہائشی ضرورتیں پوری کر رہے تھے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کچی عمارت بہت بڑی نعمت تھی ،چنانچہ کچے حال کی تعمیر کے موقع پر خوشی میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا گیا جس میں اکابر علماء تشریف لائے ۔
دوسری ضرورتوں کے سلسلے میں حال یہ تھا کہ گاؤں میں ذیادہ تر کاشتکار ہی رہتے تھے ،نائی دھوبی ،درذی ،چکی لکڑی کاکوئی انتظام نہ تھا ،غربت کی وجہ سے باورچی کا بھی انتظام بھی نہ ہو سکا ،بیچارے طلبہ اپنے ہاتھ سے کھانہ تیار کرتے تھے ،آٹا پسانے کیلئے ایک عرصہ تک تین میل، بعد میں ایک میل دور جاتے رہتے لکڑیا ں ڈیڑھ میل دور کھجوروں کے ایک جنگل سے لاتے ،کپڑے خود دھوتے اور مجاہدانہ زندگی گذارتے ہوئے ذوق و شوق سے علم حاصل کرنے میں لگے رہتے،بعد نماز فجر تعلیم شروع ہو کر دوپہر تک مسلسل جاری رہتی ،پھر فرصت ہو تی تو انتظام طعام میں مصروف ہو جاتے ،بعد ظہر پھر تعلیم شروع ہوتی ،اور بعد عصر دوسرے وقت کا کھانا تیار کیا جاتا ، بعد مغرب عشاء تک پھر پڑھائی چلتی جس میں سبق دیکھنا بھی ہوتا اور چھوٹے ہوئے سبق کا پڑھنا بھی ۔
یہ تھا ادارہ کے ان مجاہدوں کا حال جن کے طفیل میں مسبب الاسباب نے مدرسہ کی ترقی کے فیصلے فرمائے اکابر کا کہناہے کہ مجاہدوں سے ہی عمل میں برکت و ترقی ہوتی ہے،اللہ کی توفیق سے یہاں اہل مدرسہ کوجب مجاہدات کی نوبت آئی کم جگہ آتی ہے ۔
نہایت مختصر سی جگہ میں قیام و طعام اور درس ومطالعہ کی ضروتیں پوری کرنا ،ضروریات کے پورا کرنے میں مشقتوں کا سامناکرنا۔لکڑیاں کھجور کے درخت سے حاصل کی جاتی تھیں جس سے اکثر و بیشتر جسم میں کانٹے لگ جاتے اور نہا یت تکلیف کا باعث بنتے تھے ، اور بارش کا زمانہ تو سارے اہل مدرسہ کے لئے نہایت ترجانکاہ زمانہ ہوتا تھا ،تھوڑی سی بارش ہوتی اور چاروں طرف کیچڑ کا دو ردورہ ہو جاتا ،ایک تو اس علاقہ کی مٹی بھی ایسی ہی ہے اور دوسرے عمارتوں کا حال آپ کے سامنے آ چکا ہے ۔چھپروں سے نیچے پانی آنے لگتا ہے ۔سامان ،کتابیں ،بستر ،چارپائی،سب بھیگ جاتا ہے ،رات کو کہاں سوئیں اور کہاںبیٹھیں ،سوتے سوتے بارش ہونے لگتی تو پوری رات سامان اور کتابیں بچاتے گذرتی ، کہاں کا آرام اور کیسی نیند؟ اکثرراتیں مسجد میں گذرتیں اور سامان برباد ہو تا رہتا ، بارش گذری اور دارالاقامہ مرمت کا وقت آیا جو اپنی جگہ بڑا کام تھا ۔غرض یہ کہ پورا سال انتہائی پریشانی میں گذرتا ، قوم کے نو نہال اپنے گھروں کا آرام چھوڑ کر ، اس کوردہ میں محض علم دین کی خاطر مشقتیں اٹھاتے اور آئندہ رونما ہونیوالے جامعہ کی بنیادیں استوار کرتے ،ان مجاہدات میں ادارہ کےکارکن اور ان کے اہل خانہ بھی برابر کے شریک رہتے تھے ، طلبہ کی کثرت اور اسباق کی ذیادتی کی وجہ سے فجر سے پیشتر بھی کئی کئی اسباق کےپڑھنے اور پڑھانے کی نوبت آتی اور ایک ہی شخص دسیوں سبق پڑھاتا ۔
یہ تھے اس مرکز کے ابتدائی حالات!ان حالات میں بھی دین سے تعلق اور دین کا درد رکھنے والے حضرات اکابر اہل علم یہاں تشریف لاتے رہتے اور در اصل ان کا آنا اصحاب جامعہ کے حق میں بڑی ہمت افزائی کا ذریعہ و سامان تھا، ان حضرات کے تاثر ات آپ ’’تاثرات مشاہیر علماء‘‘کےعنوان کے تحت ان کی تحریرات میں ملاحظہ فرمائیے ۔
تعلیمی مشاغل کے ساتھ تبلیغی خدمات کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا اور ہے صرف بیس سال کے قلیل عرصہ میں پورے علاقہ بندیل کھنڈ کا علمی و روحانی اور تعلیمی و تبلیغی مرکز بننے کا شرف اس ادارہ کو حاصل ہو گیا تھا، اس لئے کارکنان ادارہ کی سعی کا محور محض ان کا مدرسہ ہی نہ تھا بلکہ اطراف اور پورا بندیل کھنڈ تھا ،اس سعی کے نتیجے میں اس پورے علاقہ میں دینی تازگی آئی ،اور جگہ جگہ تبلیغی نظم کے ساتھ مکاتب اور مدارس بھی قائم ہوئے ، اطراف کے مسلمانو ں کا جامعہ سے تعلق اس وقت سامنے آیا جب ۱۹۷۵ء میں جامعہ نے اپنا دو روزہ عظیم الشان اجلاس کیا جس میں دس ہزار سے زائد افراد کے قیام و طعام کا انتظام کیا گیا ۔