شیخ عبدا لفتاح ابو غدہ:
شیخ عبد الفتاح ابو غدہ کی آمد اواخر نومبر ۱۹۹۲ ؁ء مطابق ۲۸؍ جمادیٔ الاول ۱۴۱۳ھ بروز سہ شنبہ ہوئی،دو روز جامعہ میں قیام رہا چلتے وقت شیخ پر ایک خا ص تاثر وکیفیت طاری تھی،آنکھیں اشک باری تھیں، حضرت مولانا نے دوبارہ تشریف آوری کی درخواست کی تو پھوٹ کر روپڑے ،واپسی کے بعد ایک بہت مؤثر وقیع گرامی نامہ تحریر فرمایا ۔فرماتے ہیں :
’’میں مولانا علامہ جلیل القد ر شیخ صدیق احمد دامت بر کاتہ وز ادت حسناتہ کی زیارت سے بہت ہی مسرور ہوا اور اس جامعہ کی زیارت سے بھی جسکو شیخ نے ہندوستانی صحراء کے قلب میں قائم فرمایا ہے اور جو ہدایت اور علم و رشد کا کام کر رہا ہے جس میں شیخ نے علماء طلباء کو ایک لائق تعریف و تحسین تعداد میں جمع فرمایا ہے اور پاکیزہ و سادہ زندگی کے ساتھ یہ حدیث نبوی ان ہی جیسے لوگوں کے لئے ہے (اِنَّ الْمَلَائِکَۃَلَتَضَعُ اَجْنِھَتَھَالِطَاَلِبِ الْعَلْمِ رِضاً بِمَا صَنَعَ)ملائکہ طالب علم سے خوش ہونے کی بنا پر ان کے لئے اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں،حق تعالی ہمارے شیخ جلیل القد ر کو علم دین کی اس مضبوط قلعہ کی بنیاد قائم کرنے پر جزاء عطاء فرمائے اور انکے مردین وتلامذہ و محبین کو زائد برکات عطاء فرمائے اور ہر طرح کے نفع سے نوازے ۔

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ:
’’آج بتاریخ۷ جمادیٔ الثانی ۱۳۹۲ ؁ ھ جامعہ عربیہ ہتورا میں حاضری کا شرف حاصل ہو ا ،چند سال پہلے حاضری ہوئی تھی تو یہ جامعہ چند کوٹھریوں میں تھا اور آج وہ طویل و عریض دیدہ زیب عمارت کی صورت میں سامنے آیا ہے ،یہ سب کچھ اللہ کے ایک مخلص بندے کے اخلاص و بے لوثی اور حسن نیت کا ثمرہ ہے ‘‘۔
حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ:
’’متعددبار حاضر ہو کر یہاں کے منتظمین نیز طلبہ کے امتحانات لئے ہیں جن کے نتائج ہمیشہ اچھے رہے ہیں‘‘۔

حضرت مولانا امیر حیدر صاحب کاندھلوی صدر المدرسین مظاہر العلوم سہارن پور :
’’مدت سے یہاں کے لوگوں کی دینی حالت بہت کمزور ہوگئی تھی ،کوئی دینی درسگاہ پورے ضلع میں نہیں تھی ،حق تعالی جزائے خیر دے مولانا صدیق احمد باندوی سلمہ اللہ تعالی کو کہ انہوں نے اپنی انتھک کوششوں سے تعلیم و تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اور ہتورا میں اس مدرسہ کی بنیاد ڈالی ،مدرسہ کی وجہ سے پورے بندیل کھنڈ میں تعلیمی و تبلیغی کام کی اشاعت کی امید ہے اور کام شروع ہو گیا ہے ۔

حضرت مولانا سید ابولحسن علی ندوی علیہ الرّحمہ:
،یہ مدرسہ اپنے بانی اوراپنے کارکنوں کے اخلاص ، ایثار و قربانی ،جدو جہد اور اپنے طلبہ کی سادگی و صلاحیت ،و ماحول کی پاکیزگی ،شہر کے آفات سے دوری کی بناء پر دور دور اپنی نظیر نہیں رکھتا ہے، اس مدسہ کو اخلاص و ایثار کا ایسا سرمایہ حاصل ہے جوبڑے بڑے مدارس کے لئے قابل رشک ہے ‘‘۔

حضرت مولانا محمد منظور صاحب علیہ الرحمۃ:
’’ہر دینی کام کی روح اخلاص اور قربانی ہے اوریہ چیزیں جتنی مجھے یہاںمحسو س ہوئیں بے تکلف کہہ سکتاہوں کہ اتنی کہیں اور محسوس نہیں ہوئیں دین اور علم دین کی محبت اور فکر رکھنے والوں کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ سفر کی صعوبت اٹھا کر اس مدرسہ کو ضرور دیکھیں ،اس مدرسے کی جو اصل خصوصیت ہے وہ لکھنے پڑھنے کی نہیں بلکہ خود وہاں جاکر ٹھہر کر دیکھنے کی ہے ‘‘۔

حضرت مولاناعبد الماجد دریا بادی علیہ الرحمہ :
’’ مدرسہ کی عمارت دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی ،مقام اتنا چھوٹا اور مدرسہ اتنا بڑا ،ماشا ء اللہ اسلام کے قلعے کہاں کہاں اور کیسے کیسے قائم ہیں !

عمدۃ المقررین مولانا ابوالوفاء شاہجہاں پوری علیہ الرحمۃ:
’’مدرسہ کی عمارت ،اور مدرسین ،اور طلبہ ،ان کے حسن انتظام ،تعلیمی صلاحیتیں کودیکھ کر میں بلا خوف تردید کہہ سکتاہوں کہ یہ صرف مدرسہ نہیں بلکہ دینی تعلیم وتربیت کا ایک قابل اعتمادادارہ ہے،جس پر ہر طرح سے بھروسہ کیا جا سکتا ہے ‘‘۔