جامعہ نے جب ترقی و استحکام کی طرف قدم بڑھایا تو بہت جلد اس کی شہرت نہ صرف ملک میں بلکہ باہر تک پہونچ گئی ۔اسمیں سب سے اہم کشش تو حضرت بانی علیہ الرحمہ کی ذات و صفات کی تھی اور ان کی سرپرستی پر اعتماد اور انکی صحبت کی برکت و فیض کی ۔

        چنانچہ اولاً تو فتح پور ،گونڈہ جہاں حضرت نے تدریسی فرائض انجام دئے تھے وہاں سے طلبہ کھنچ کر آئے اور پھر بتدریج صوبے کے اضلاع علاقے کے اضلاع اور پھر دورے صوبے سے طلبہ آنے لگے حتی کہ شائد ہی کوئی صوبہ بچا ہو جہاں کے طلبہ یہاں سے مستفیذ نہ ہوئے ہوں اس وقت یوپی،بہار ،مدھیہ پردیش کے ساتھ آسام،بنگال آندھراپردیش،ہریانہ وراجستھان،اور مہاراشٹر وگجرات وغیرہ کے طلبہ ہیں،بیرونی ممالک افریقہ ،و برطانیہ ،نیز نیپال،برما،ملیشیا،والجزائر ،کے طلبہ آئے تھے ۔

        یہ تو فیض ہوا ان طلبہ کا جو ان علاقوں سے آکر جامعہ سے مستفیذ ہوئے  اور جب طلبہ نے یہاں کی تعلیم و تربیت سے فائدہ اٹھایا اور اسکے بعد اسی مشغلہ میں لگے وہ ان سے ذیادہ پھیلے جو یہاں آتے رہے اور آتے ہیں۔

آج جامعہ کے فارغین اور فضلاء پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور ملک کی مرکزی درسگاہوں میں مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں ،نیز بیرون ملک بھی وہ ان مشاغل میں لگے ہوئے ہیں۔

 حق تعالی ان طلبہ جامعہ کو وابستگان جامعہ کی خدمات کو ہمارے حضرت علیہ الرحمہ کے حق میں قبول فرماکر صدقہ جاریہ بنائے اور نہ صرف ان کیلئے بلکہ جامعہ کے جملہ محبین اور معاونین ومنتسبین کے لئے بھی اجرو ثواب اور خیر برکت کا ذریعہ بنائے ۔

        جامعہ کے فیض یافتگان کی دینی خدمات صرف تدریس کی شکل میں ہی نہیں انجام پارہی ہے بلکہ وعظ خطابت اور امامت نیز تصنیف و تالیف ساری شکلوں میں انجام پارہی ہے ۔ایک ایک آدمی کی متعدد مفید کتابیں ہیں ،نہ صرف اردو میں بلکہ دیگر زبانو ں میں عربی ،ہندی، انگریزی ،وغیرہ میں بھی ۔

        اور الحمد للہ تعمیرات کا وسیع سلسلہ برابر جاری ہے ۔چنانچہ فی الحال جامعہ کی مسجد کی توسیع ہوئی محراب کی جانب سات صفوں کے اضافے کے ساتھ پوری مسجد دو منزلہ کردی گئی ۔درسگاہوں کی دوسری منزل پر تیسری منزلکا اضافہ ہوا ،درسگاہوں کے عقبی حصہ میں سہ منزلہ طویل و عریض بر آمدہ تعمیر کیا گیا دو سو فٹ لمبی اور ۸۰ فٹ چوڑی ’جدید کتب خانہ ‘ کی سہ منزلہ عظیم الشان عمارت،’معہد الاطفال‘کے نام سے تہ خانہ سمیت چہار منزلہ عظیم الشان عمارت تیار کی گئی ہے جہاں چھوٹے بچوں کا تربیتی نزاکتوں کے پیش نظر  علاحدہ قیام رہتا ہے وہیں ان کی درسگاہیں اور نمازوں کی سہولت ہے ۔’احاطہ مطبخ‘ کے نام سے شعبہ تجوید و قرأت کے طلبہ کے لئے مستقل دو منزلہ قیام گاہ تعمیر کی گئی ہے ۔دارالملازمین کے نام سے نئے فیملی کورٹر س بنائے گئے ہیں ۔

شہر باندہ میں حضرت مولانا صدیق میموریل اسکول بنایا گیا ہے ۔اور صدیق ہاسپٹل ،عوامی ضرورتوں کا احساس کرکے تعمیر کیا گیا۔بچیوں کے لئے اعلی دینی تعلیم سے فکر مند ہو کر ایک مدرسہ ’جامعہ خیر البنات‘ کے نام سے تعمیر کیا گیا ہے جہاں بحمد للہ پنج سالہ مکمل عالمیت کا نصاب پڑھایاجاتا ہے ۔فالحمد علی ذالک۔

        لیکن طلبہ اور مہمان رسول کا جس طرح اس ’ادارہ ‘ کی طرف رجوع ہے اس کے پیش نظر موجو دہ عمارتی سلسلہ ناکافی ہے بلکہ طلبہ کی قیام گاہیں طے کرنے میں منتظمین جامعہ کو دقتوں کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔

        اس لئے فی الحال ایک  ۰ وسیع دار الاقامہ۰جدید عربی درسگاہیں ۰تحفیظ القرآن۰دارالحدیث۰کتب خانہ(لائبریری)۰دارالشفاء(ہسپتال)۰دارالضیافہ(مہمان خانہ)۰کی اشد ضرورت ہے۔