مسلمان کہیں بھی ہو تعلیم تعلم سے نہ مستغنی رہتا ہے اور نہ رہا ،اس پر دین کے اعتبار سے ذمہ داری ہی ایسی ہے ۔اس لئے وہ جہاں کہیں جاتا ہے اور رہتا ہے تعلیم و تعلم کی کوشش جاری رہتی ہیں ۔
ہمارے ملک میں بھی یہ سلسلہ ہر دور میں رہا اور انقلاب ۱۸۵۷؁ء کے بعد اس پر خصوصی توجہ کی گئی ،لیکن جامعہ کا قیام کچھ اور ہی حالات میں ہوا جن سے اس کی اہمیت و عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۱۹۴۷؁ء میں ملک کی آزادی کے بعد جب قتل وخون کے بازار کی گرمی سرد پڑگئی اور اس سے سکون نصیب ہو اتو علم سے دور اور جہالت سے چورعلاقے کے رہنے والے مسلمانوں کو ایک نئے فتنے کا سامناکر نا پڑا جو اس فتنہ سے زیا دہ سخت تھا ،اور وہ فتنہ ، ارتداد تھا کہ بھولے بھالے مسلمانوں کو بہکاکر یا پریشان و مجبور کر کے ارتداد اور ترک ایمان و اسلام پر مجبو کیا جارہا تھا۔
۱۹۰۵؁ء کی بات ہے کہ باندہ ضلع میں بھی اس کا اثر رونما ہوا اور بہت سے افراداس سے متاثر ہو کر مرتد بھی ہو گئے اور یوں بھی لوگ کفر و شرک کے ماحول میں اور علم آگہی سے کوسوں دور تھے ،نام بھی غیر اسلامی ،کلمہ سے بھی ناواقف اور دین و مذہب کے نام پر بس رسوم اوہام کی پابندی کی جاتی تھی ۔حضرت بانی جامعہ علیہ الرحمہ کا قیام ان دنوں شہر’فتح پور‘میں تھا ، جہاں وہ وہاں کے قدیم ادارہ ’مدرسہ اسلامیہ‘میں تدریسی خدمت انجام دے رہے تھے ،ان کو وطن کی اس نئی افتاد کا علم ہوا ،بعض احباب نے اخبار کے واسطے سے ارتداد کے پھیلنے کی خبر سنائی تو اپنے بھائیوں کو اس فتنہ سے نکالنے اور بچانے کیلئے دل تڑپ اٹھا اور دل میں یہ ٹھان کر کہ اب اپنے وطن میں رہ کر کچھ کرنا ہے ،مدرسہ سے استعفی دے کر چلے آئے۔
یہاں ابتدائً تو تبلیغی گشت اور دوروں کا سلسلہ رہا جس سے بحمد للہ اس فتنہ کا بڑا قلع قمع ہوا،مگر پھر آئندہ کے لئے اسکے سد باب کی فکر ہوئی ،نیز گشت میں جو حالات سامنے آئے ان کا بھی تقاضہ ہوا کہ مستقل کوئی بندو بست کیا جائے ،تو دل میں بات آئی کہ ایک طرف تبلیغی گشت کا سلسلہ جاری رہے اوردوسری طرف مدارس اور مکاتب قائمکئے جائیں،چنانچہ اس پر عمل بھی کیا گیا ، ایک مرکزی ادارے کی بھی ضرورت محسوس کی گئی ،اسکے قیام کے لئے مختلف مواقع پر کوشش کی گئی ۔ احباب نے بھی تعاون کیا ،ضلع کے مشہور مقام ’نرینی‘ میں اس کے لئے مکان خریدا گیا ، بعض اور مقامات پر بھی کوشش کی گئی ۔لیکن مشیئت ایزدی نے یہ سعادت اس سر زمین کے لئے رکھی تھی جو مدتوں سے بزرگوں ،اکابر اہل علم مشائخ کی توجہات کا مرکز اور انکی آماجگاہ تھی ،چنانچہ ہر جگہ سے مایوس ہو کر خود اپنے وطن ’ہتورا‘ میں ہی اس مرکز کے قیام اور ’مرکزی کام ‘ کا ارادہ کیا اور حق تعالی نے اخلاص اور پختگی عزم کی بنا پر اس ادارے میں جو برکت عطا فرمائی وہ آج روز روشن کی طرح عیاں ہے اور الحمد اللہ اب جامعہ کی عمر۶۷سال ہو گئی ہے اور لفظ ’جامعہ ‘ کو ان دنوں جو اہمیت حاصل ہوتی جارہی ہے اس کے پیش نظر ا سے دسیوں سال پہلے جب کہ اس ملک میں مدارس کے نام کے سلسلہ میں یہ لفظ ذرا نامانوس تھا ،اس ادارے کو اس نام سے موسوم کرنا در اصل کرامت نہ سہی تو فراست ضرور تھی ہے۔