1. دارالشفاء : جامعہ چونکہ شہر سے دور ایک دیہات میں واقع ہے اس لئے علاج و معالجہ کے سلسلے میں طبی سہولیات میسر نہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے اس پر اب تک کوئی توجہ دی گئی ہے ،اس لئے ایک مناسب اور ضرورت کی کفالت والے شفاء خانے کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔
2. دارالضیافۃ (مہمان خانہ ) : جامعہ کا مہمان خانہ عمار ت کے اعتبار سے نہایت ہی مختصر چند کمروں پر مشتمل ہے ،مہمانوں کی آمد و رفت اور ان کے قیام و آرام میں دشواری کی بناپر ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ’’ مہمان خانہ ‘‘ کی مستقل ایک عمارت ہو جو تمام سہولیات سے آراستہ ہو اور اسی میں شوریٰ کیلئے ایک ہال ہو ۔
3. مزید دارالاقامہ (ہاسٹل ):کی تعمیر ۔نیز دارالاساتذہ (فیملی کوارٹرس ) کی ضرورت ۔
4. (دفاتر) پہلے جامعہ چھوٹا تھا شعبہ بھی کم تھے اسوجہ سے ایک دفتر سے کام چل جاتا تھا جیسے طلبہ کی تعداد بڑھتی گئی شعبہ بھی بڑھتے گئے اور دفترکی تعداد بھی بڑھتی گئی چونکہ دفتر کی کوئی مستقل عمارت نہ ہونے کی وجہ سے دارالاقامہ ہی کے کمرے لیکر دفتر بنا دئیے گئے ہیں ،مثلاً(۱) دفتر تعلیمات(۲)دفترمالیات(۳)دفتر مکاتب(۴) دفتر مطبخ (۵) دفتر تعمیرات (۶)دفتر برقیات (۷)دفتر آلات (۸) دفتر نشر و اشاعت۔ ان میں سے اکثر دفتر دو کمروں پر مشتمل ہیں اسطرح دارالاقامہ میں رہائشی کمروں کی تعدادکم ہو گئی ہے اور طلبہ کے رہنے کے لئے تنگی ہو گئی ہے اس لئے ایک بلڈنگ دفاتر کے لئے جو کم سے کم ۱۲۔۱۳ کمروں پر مشتمل ہو سخت ضرورت ہے ۔
یہ چند ایسے منصوبے ہیں جو فوری تکمیل اور مصارف کے متقاضی ہیں ،امید ہے کہ معاونین اور بہی خواہانِ جامعہ ان کی اہمیت کے پیش نظر توجہ فرماک عنداللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہونگے ۔جامعہ آپ کی دعاؤں کا اور توجہات کا مستحق ہے ،اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو اپنے مقاصد حسنہ میں کامیاب فرمائے اور ہر قسم کے شرور فتن سے حفاظت فرمائے اور خدمت دین کے لئے قبول فرماکر ترقیات سے نوازے ،آمین۔