جامعہ نے اپنے جملہ شعبہ جات میں ’درس نظامی‘اور دارالعلوم دیوبند اورمظاہر العلوم وغیرہ کے نصاب نظام کو مد نظر رکھا ہے ،لیکن اس نظم نظام میں اجتہاد سے کام لیکر حالات و ماحول کی رعایت کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ،اسی طرح نصاب میں قدیم نافع اور جدید صالح دونوں کو ملحوظ رکھا ہے ،اور طلبہ  کےمزاج اور بدلتی فطرت کو بھی ۔ اسی لئے شعبہ عربی بشمول شعبہ تجوید سب کا ایک الگ نصاب تجویز کیا اور بہت سی کتابیں شامل کی گئیں ۔

        شعبہ تجوید کا ایک ایسا نصاب بھی بنایا کہ جو طلبہ شعبہ عربی سے منسلک ہوں وہ اگر چند سال جامعہ میں رہیں تو روایت حفص کے باضابطہ قاری بن جائیں اور اس بابت متعدد نئی کتابیں داخل نصاب ہیں ،جن میں حضرت بانی علیہ الرّحمہ کی کتاب’تسہیل التجوید‘ بھی داخل نصاب ہے اور شعبہ عربی میں سات آٹھ سالہ نصاب بنایا ،پہلا سال تو تمہیدی ہے اور اصل نصاب سات سال کا ہے ،اس نصاب میں ہندی و انگریزی اور حساب بقدر ضرور ت نیز فارسی اور کچھ اردو بھی شامل ہے ،اور عربی درسیات میں نحو وصرف اور عربی ادب وغیرہ میں مروج کتب سے الگ کتابیں بھی اختیار کی ہیں۔

، عربی ادب میں حضرت مولانا علی میاں صاحب کی کتب ،قصص النبیین ،القراۃ الراشدہ ،مختارات کو بھی شامل کیا ہے اور بنیادی بنایا ہے اور معلم الانشاء بھی شامل ہے بلکہ عربی تمرین کا نظم سال اول سے لے کر سال چہارم تک ہے ۔نیز بنیادی معاون علوم ،نحو صرف منطق اور بلاغت و اصول فقہ میں اردو میں کتابیں شامل کی ہیں ۔

نیز عصری علوم سے فارغ التحصیل اور بڑی عمروالوں کے لئے پانچ سال کا نصاب ہے جو کہ اصل نصاب کا ما حصل ہے۔

دینی مدارس و جامعات میں شعبہ عربی فارسی (درس نظامی) ہی وہ شعبہ ہے جس کی تکمیل پر طالب علم کو مدارس کی زبان میں ’فارغ التحصیل‘اور عرف میں ’عالم‘ کہا جاتا ہے اس میں حضرت ملا نظام الدین علیہ الرحمہ کا مرتب کردہ الہامی نصاب پڑھایا جاتا ہے ۔اس نصاب کی ترتیب کو اگر چہ کئی صدیاں گذر چکی ہیں ،تاہم اس کی افادیت اب بھی مسلم ہے ۔

        گردش و دوراں اور نت نئے فقہی مسائل اور معاشرتی تقاضوں کی وجہ سے قدرے تبدیلی و ترمیم کی ضرورت پیش آتی رہتی ہیں ،جسکا فریضہ ماہر علماء کرام کا بورڈ انجام دیتا ہے ۔

حکومتی حلقوں اور جدت پسند اسکالروں کی طرف سے اس نصاب پر  Out of dateہونے پھبتیاں کی جاتی ہیں اور مختلف بے بنیاد اعتراضات کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،تاہم علماء ربانین کی مخلص جماعت اس قسم کے کسی بھی سمجھوتے کی رواد ار نہیں۔

تعلیمی شعبہ جات

جامعہ کے تعلیمی شعبہ جات پر ایک اجمالی نظر

۱۔  شعبۂ عربی فارسی (سات  سالہ ،پنج سالہ )                 ۲۔  شعبۂ تخصص فی الادب العربی

۳۔  شعبہ قرات  وتجوید                                  ۴۔  شعبہ حفظ

۵۔  شعبہ ناظرہ (پرائمری)                            ۶۔  شعبہ تدریب المعلمین

۷۔  شعبہ خطابت ۸۔  شعبہ النادیٔ العربی

۹۔شعبہ افتاء       ۱۰۔ شعبہ انگریزی

 

اب ان شعبہ جات کی قدرے تفصیل ملاحظہ ہو :

  • شعبہ عربی و فارسی:  اس شعبہ میں پورے درس نظامحی کے ساتھ با قاعدہ تعلیم ہوتی ہے سال اول سے لیکے سال ہفتم تک یعنی دورہ حدیث تک مکمل تعلیم کا نظام شامل ہے ۔
  • جامعہ کا یہ شعبہ سات سالہ نصاب پر مشتمل ہے جو جامعہ کا اپنا مرتب کردہ ہے ، مگر رو ح و بنیادی محور درس نظامی ہی ہے ،ہاں ضرورت و تجربہ کی بنا پر کتابوں کی تجویز بلکہ تالیف و تربیت بھی جامعہ نے کی ہے ۔
  • اس شعبہ سے ملحق ایک شعبہ پنج سالہ ہے عربی کورس کا ہے جس میں معدود شرطوں کے ساتھ بڑی عمر والے طلبہ کا داخلہ لیا جاتا ہے ،تاکہ کم وقت میں ذیادہ سے ذیادہ استفادہ کا موقع فراہم ہو ۔
  • ان دونوں شعبوں میں متعدد اساتذہ ہیں ،اور نو سو کے قریب طلبہ زیر تعلیم رہتے ہیں ۔اب تک اس شعبہ سے ہزاروں کی تعداد میں  طلبہ سند فراغت حاصل کر چکے ہیں ۔
  • شعبہ تخصص فی الادب العربی: شعبہ عربی فارسی سے فراغت کے بعد مزید یہ ایک سالہ کورس ہے ،جس میں طلبہ ادب عربی میں مہارت حاصل کرنے کے لئے داخلہ لیتے ہیں ۔یہ شعبہ سال (۱۴۳۱ھ) میں شروع ہوا ہے ۔
  • اس شعبہ کو پانچ اساتذہ کی سرپرستی حاصل ہے ۔
  • شعبہ افتاء: اس شعبہ میں بہت شرطوں کے ساتھ صرف پندرہ سے بیس طلبہ کا داخلہ لیا جاتا ہے ، ان طلبہ کو فقہی کتب کے ساتھ جدید فقہی مسائل کا مشق کرایا جاتا ہے۔
  • شعبہ حفظ: اس شعبہ میں صحت و تجوید کے ساتھ قرآن کریم حفظ کرانے کا اہتمام کرایا جاتا ہے ، روز آنہ سبق اور سبق کا پارہ سن کر آگے سبق ملتا ہے ،حسب استعداد ہر طالب علم سے آموختہ سنا جاتا ہے بعد نماز مغرب اوابین میں قرآن کریم پڑھنے کی تاکید کی جاتی ہے ، اس شعبہ میں آٹھ سو کے قریب طلبہ بیس کے قریب حضرات اساتذہ کرام کے زیر سایہ تحفیظ قرآن میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔
  • شعبہ قرأت و تجوید : اس شعبہ کے تحت قرأت کی اور حفص سبعہ و عشرہ کی بھی تعلیم ہوتی ہے ،حفظ و عربی دونوں شعبوں کے تمام طلبہ اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں ،اس اس شعبہ کو چار اساتذہ کرام کی خدمات حاصل ہیں ۔
  • شعبہ ناظرہ: جامعہ کے اس شعبہ کی ۲ شاخیں ہیں ،اور اس میں ناظرہ قرآن مجید کے ساتھ دینیات و دیگر علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں ،پہلی شاخ مدرسہ کے احاطہ میں ،جس کے اندر گاؤ ں کے بچے اور بیرونی طلبہ بھی پڑھتے ہیں ،جو لگ بھگ تین سوہوتے ہیں ،اس شاخ میں ۵ اساتذہ ہیں ۔دوسری شاخ گاؤں کے اندر مسجد کے عقب میں بچیوں سے متعلق ہے ،اس میں صرف گاؤں کی بچیاں پڑھتی ہیں ،دو استاد اس میں ہیں ،بچیوں کو حفظ بھی کرایا جاتا ہے ،کچھ بچیوں نے حفظ کی تکمیل بھی کی ہے ۔
  • شعبہ خطابت: طلبہ کے اظہار ماضی فی الضمیر سے متعلق ایک شعبہ خطابت بھی ہے جسکا نظم بعض اساتذہ کے زیر نگرانی میں چلتی ہے ،ہر جمعرات کو طلبہ مختلف جماعتوں میں ہو کر تقریری مشق کرتے ہیں ۔
  • النادیٔ لعربی : یہ طلبۂ جامعہ کی انجمن ہے جو عربی زبان و ادب کے ماہر اساتذہ کی نگرانی میں چلتی ہے،اس میں طلبہ کو عربی تقریر و تحریر کی مشق کرائی جاتی ہے ،اس انجمن میں عربی درجات کے طلبہ شریک ہو تے ہیں ۔

دیگر شعبٔہ جات

  • کتب خانہ : تعلیمی کام نیز دینی خدمات کے لئے کتب خانہ کی جو اہمیت ہے ظاہر ہے ،ادارہ کی بھی اس شعبہ کی توسیع اور نظم پر خصوصی توجہ ہے ،کتب خانہ میں طلبہ کی ضرورت کے لحاظ سے بڑی تعداد میں درسی کتابیں اور انکے متعلقات ہیں ، اور ان کے علاوہ بھی علو م و فنون کی کافی اوراہم کتابیں ہیں جن میں برابر اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ،اب دو بڑے حالوں پر مشتمل اس کی ایک مستقل عمارت ہے ۔
  • اس شعبہ کو کتب نظم و نسق کے ماہر ین چار افراد کی خدمات حاصل ہے ۔
  • حضرت صدیق دارالمطالعہ : کتب درسیہ سے الگ ہٹ کر خارجی مطالعہ سے متعلق دو بڑے کمروں پر مشتمل لائبریری ہے جس میں طلبہ کی ضرورت کی کتابیں مختلف علوم و فنون میں موجود ہیں ۔روز آنہ طلبہ بعد نماز مغرب تا عشاء اور پھر از عشاء تا ۱۰ بجے رات موسم سرما میں اور موسم گرما میں ۱۱؍ بجے تک طلبہ دارلمطالعہ پہنچ کر استفادہ کرتے ہیں ۔
  • شعبہ مطبغ : جامعہ کا ایک مطبخ ہے جس میں دونوں وقت کا کھانا پکتا ہے ،کھانے میں تنوری روٹی گوشت سبزی ہر پندرہ دن میں ایک باربریانی نیز ایام سرما میں انڈے بھی دئیے جاتے ہیں۔چند طلبہ کے علاوہ باقی تمام طلبہ کا مدرسہ ہی کفیل ہے ۔
  • اس شعبہ کو بیس ملازمین کا تعاون حاصل ہے۔
  • شعبہ تعمیر و ترقی : اس شعبہ کے تحت ادھر چند سال سے مستقل کام جاری ہے اور خصوصیت یہ ہے کہ کاری گروں و مزدوروں کے ساتھ وقتا ً فوقتاً مدرسہ کے طلبہ و اساتذہ بھی کام میں شامل ہوتے ہیں اور بڑی جانفشانی سلسلہ کی بڑی بڑی اور اہم کام انجام دے کر مدرسہ کا بہت بڑا تعاون کرتے ہیں ، انکے اس تعاون کی بنا پر تعمیر کے سلسلہ میں مدرسہ کی کافی مالی بچت ہوتی ہے ،رمضان المبارک کے مہینہ میں حضرات اساتذہ کرام ملک ے محتلف گوشوں کا سفر فرماکر اس مبارک ماہ میں روزہ رکھ کر مددرسہ کے اخراجات کے لئے رقم کی فراہمی کے سلسلہ میں سعی و جد و جہد فرماتے ہیں ۔
  • شعبٔہ مکاتب : یہ شعبہ دراصل شعبہ تبلیغ کا ایک جز ہے  ،اس کے ذریعہ علاقہ ، علاقہ بلکہ گاؤں ،گاؤں مکاتب و مدارس قائم کرنے کی اپیل و سعی  کی جاتی ہے اور الحمد للہ یہ سعی کامیاب ہے ، اب تک اس سعی کے نتیجے میں پورے علاقے میں بڑی تعداد میں مکاتب قائم ہو چکے ہیں ،جن میں سے بعض کا نظم و نسق ان مکاتب کے ذمہ داران حضرات کرتے ہیں ،جامعہ بھی حسب موقع ان کا مالی تعاون کرتا رہتا ہے  اور سالانہ آمد و خرچ نیز انکی تعلیم وتر بیت کے نظام کی نگرانی کرتا ہے ،سالانہ امتحان جامعہ کے اساتذہ لیتے ہیں ۔
  • اس کے علاوہ بہت سے مکاتب جو دور دراز پسماندہ علاقوں میں ہیں ان کے سارے اخراجات جامعہ برداشت کرتا ہے ۔ اس شعبہ کو دو (۲) نفر کی نگرانی حاصل ہے۔

عوامی افادہ کے شعبے

مدرسہ کے زیر انتظا م دو شعبے ایسے بھی ہیں جن کے ذریعہ عوام کی خدمت اور انکی دینی رہنمائی کی جاتی ہے ۔

  • شعبہ افتاء: جس کے تحت زبانی مسائل کے علاوہ بصورت تحریر آئے ہوئے سوالات کے جوابات ،پوری تحقیق اور چھان بین کے بعد دئیے جاتے ہیں ،اور الحمد للہ اس شعبہ کی کارگردگی میں برابر ترقی ہو رہی ہے ۔
  • شعبہ دعوت و تبلیغ : یہ جامعہ کا نہایت اہم شعبہ ہے بلکہ اصل مقصود  اسی کیلئے اتنا عالیشان ادارہ قائم کیا گیا ہے ، ادارہ کے مختلف اساتذہ اور ذمہ دار حضرات اسی کے تحت مختلف علاقوں قصبوں و بستیوں کا سفر فرماتے ہیں اور بلا معاوضہ وعظ و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ مقامی و شہر کے ہفتہ وار تبلیغی اجتماع کا بھی نظم کیا جاتا ہے اور فکر رکھی جاتی ہے ۔
  • ملک کے مختلف اجتماعات بالخصوص بڑے اجتماعات میں اساتذہ و ذمہ دار حضرات تشریف لے جاتے ہیں ، طلبہ کی ہفتہ وار جماعتیں نکلتی ہیں اور حسب موقع دوسرے حضرات مقامی و بیرونی بھی شریک ہوتے ہیں ۔

اس شعبہ کو معتد بہ جماعت کی سرپرستی حاصل ہے ۔

  • شعبہ تربیت طلبہ : اصلاح و تبلیغ کے سلسلے کی مساعی صرف عوام ہی سے متعلق نہیں ہوتی ہیں ، بلکہ ان کا تعلق طلبہ سے بھی ہے ، آئندہ انہیں کو ان کا موں کی ذمہ داری سنبھالنی ہے ،ہر طالب علم کے مزاج کی رعایت کے ساتھ اس کی کوتاہی پر مناسب تنبیہ کی جاتی ہے ،نماز پر پابندی کے لئے وقتاً فوقتاً نماز میں حاضری لیکر غیر حاضرین کو تنبیہ کی جاتی ہے ۔اس شعبہ کی نظم کی تربیت یہ ہے کہ دارالاقامہ کو ۱۱ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اورہر حصہ کا ایک با اختیار نگراں مقرر کر دیا گیا ہے جو ان حصوں میں رہنے والے طلبہ کی ہر طرح کی نگرانی و اصلاح کرتا ہے اور اسکے علاوہ نگرانی کیلئے جنرل یاڈی ہے جو حصوں سے بالا تر ہے
  • شعبہ نشر اشاعت : جامعہ کے اس شعبہ سے دینی ،علمی اور اصلاحی موضوعات پر مختلف قسم کی چیزیں ،سحر افطار کا نظام الاوقات ،احکام و مسائل عیدین ،سالانہ روداد او ر کلنڈر وغیرہ نیز جامعہ کی دیگر ضروریات کی چیزیں شائع ہوتی ہیں اور مفت تقسیم ہوتی ہیں۔
  • شعبہ کمپوٹر: اس شعبہ سے جامعہ کے سارے کمپوزنگ اور فوٹوکاپی کا کام انجام پاتا ہے۔