بانی کا پیغام

جامعہ کا ابتدائی دور حضرت باندوی ؒکے قلم سے

الحمد اللہ کفی وسلم علی عبادہ الذین اصطفی:
برادران اسلام!
پیش نظر اوراق آپ کی خدمت میں ،مدرسہ اسلامیہ عربیہ ہتورا ،ضلع باندہ کے تعارف اور اسکے دینی ،علمی و تبلیغی خدمت کے سلسلے میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں (۱۹۵۰ء کی بات ہے کہ میں مدرسہ اسلامیہ فتحپور میں مدرس کی حیثیت سے کام کر رہا تھا ، کہ اچانک ضلع باندہ میں فتنہ ارتداد رونما ہوا ، اور چند مسلمان غیر مسلموں میں چلے بھی گئے ، میں نے جب یہ حالات دیکھے تو بڑا صدمہ ہوا ، اور محسوس کیا کہ علاقہ میں دین کی تبلیغ کا کوئی انتظام نہ ہونے کا ہی نتیجہ ہے ) اسی تاثر کی بنا پر میں مدرسہ اسلامیہ فتح پور سے استعفیٰ دے دیا اور ضلع باندہ میں آکر کے تبلیغی طور سے اسکے مختلف حصوں میں گشت لگا تا رہا ،اس گشت کے دوران تجربہ ہو ا کہ علاقہ میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد دین سے بالکل ناواقف اور بے خبر ہے وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلام کیا ہے ’’مسلمان ‘‘کسے کہتے ہیں کلمہ طیبہ کیا چیز ہے ،اسی بے خبری اور جہالت کا نتیجہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں امتیاز نہیں کرسکتے ہیں ،اور آسانی سے کفر کے سیلاب میں بہ سکتے ہیں ، اس لئے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ’’دینی تعلیم‘‘ کا کوئی بندو بست کیا جائے ،چنانچہ میں کوشش کرنے لگا کہ جگہ جگہ دینی مکاتب قائم کئے جائیں ،اور ایک مرکزی مدرسہ بھی قائم کیا جائے ،تاکہ چھوٹے مکاتب سے ابتدائے تعلیم حاصل کرکے طلبہ مرکزی مدرسہ میں آکر درس نظامی کی تعلیم حاصل کریں ، اور علم دین کی تکمیل کے لئے باہر کے بڑے مدارس میں جائیں ۔
اس مرکزی مدرسہ کیلئے مناسب جگہ کی تلاش میں کافی وقت گذرا ،احباب اور مخلصین نے اس سلسلے میں کچھ امداد فرمائی اور قصبہ ’نرینی ‘ ضلع باندہ میں ایک مکان خریدا گیا ،اور اس میں مدرسہ قائم کیا گیا ، کچھ دن وہاں رہ کر تعلیمی کام کیا ،لیکن حالات کی نامواقت کی وجہ سے وہاں کام نہ ہو سکا ، پھر ضلع کے مختلف مقامات میں کوشش کی گئی ، لیکن اللہ تبارک و تعالی کی مرضی کہ وہاں بھی کامیابی نہ مل سکی ۔
پھر آخری درجہ میں اپنے وطن موضع ہتورا ضلع باندہ (جو ایک بہت چھوٹا سا گائوں ہے ) اللہ کے بھروسے سے کام شروع کیا ،کچھ طلبہ جن سے مدرسہ اسلامیہ فتح پور کی مدرسی کے زمانہ سے تعلق تھا وہ ہتورا آ گئے اور درس نظامی کی کتابیں پڑھنے لگے ، بیچارے طلبہ کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ،ایک مقامی صاحب خیر بزرگ کے مکان سے متصل ایک چھوٹا سا کمرہ تھا ،وہی ان کی قیام گاہ تھی ،اوروہی ان کی درسگا ہ تھی ،مجھے جب موقع مل سکتا ،ان کو لیکر بیٹھ جاتا اور سبق پڑھا دیتا ،کچھ دنو ں تک اس طرح کام چلتا رہا ،بالآخر اللہ تبارک تعالی نے اپنا فضل فرمایا اور وسعت نصیب فرمائی اور چند اہل خیر حضرات نے مدرسہ کے لئے زمین عنایت فرمائی اور اس پر تعمیری کا م جاری کردیا ،اسی دوران میں لوگوں کو کام کی اطلاع ہوگئی ،باہر سے لوگوں نے اپنے بچے بھیجنے شروع کر دئیے ،کچی دیواروں اور کھپریل کے کچھ چھپر تیار ہو گئے ،ان ہی میں باہر سے آنے والے طلبہ کے قیا م کا انتظام کر دیا گیا ،پھرآہستہ آہستہ طلبہ کی مدد سے تعمیری کام جاری رہا ،اور تعلیمی کام بھی توجہ اورمستعدی کے ساتھ ہوتا رہا ،طلبہ نے ہزار مصائب برداشت کئے لیکن ہمت نہیں ہاری ان ہی مردانہ ہمت کی وجہ سے بحمد للہ آج مدرسہ کے دارالاقامہ میں بارہ بڑے کمرے اور ایک وسیع ہال تعمیر شدہ موجود ہے ،یہ سب عمارت کچی دیواروں اور کھپریل کے چھپر کی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ مدرسین کی ہمت بھی لائق تحسین و آفریں ہے ،جنہوں نے سخت مشکلات اور شدید تکلیف کے باوجود جو سخت عسرت اور تنگی کے دور میں مدرسہ کی خدمات کی ،اللہ تعالی قبول فرمائے اور جزائے خیر عطا فرمائے ۔
یہ مقام کچھ ایسی جگہ واقع ہے کہ یہاں ضروریات کی چیزیں دستیاب نہیں ہوتیں ہر چیز باندہ کے بازار سے آتی ہے ،جو یہاں سے دس میل کے فاصلے پر ہے ،یہاں تو نہ دھوبی ہے ،نہ درزی،نہ نائی ہے ،نہ قصائی ۔چھنہرا لال پور جو یہاں سے ایک میل جانب جنو ب واقع ہے ،وہاں سے نائی آتا ہے ،آٹاپسانے کے لئے بھی طلبہ کووہیں جانا پڑتا ہے ،یہاں لکڑی دستیاب نہیں ہوتی ،ایک میل پر کھجور کا جنگل ہے بیچارے طلبہ وہاں جاکر کھجور کے درخت پر چڑھ کر لکڑی توڑتے ہیں اکثر و بیشتر کھجور کے کانٹے بدن کے متفرق حصوں میں لگتے ہیں ،جس سے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔طلبہ اپنے ہاتھ سے اپنا کھانہ پکاتے ہیں اور وہ منظر قابل دید ہوتا ہے جب مدرسہ کے باورچی خانہ میں قطار درقطار بنے ہوئے چولہوں پر طلبہ اپنا کھانہ پکاتے ہیں۔
کھانے سےفراغت کے بعد پھر اپنے تعلیمی کاموں میں لگ جاتے ہیں اور صبح سے دوپہر تک ،پھر ظہر کے بعد سے عصر تک تعلیم حاصل کرتے ہیں ،مغرب کے بعد سے عشاء تک مدرسین کی زیر نگرانی با قاعدہ دن بھر کا پڑھا ہو ا سبق یاد کرتے ہیں ،اگردن میں کوئی سبق رہ جاتا ہے تو اس وقت اس کوپڑھتے ہیں ، آخر شب میں پھر اٹھتے ہیں اورپڑھتے ہیں ،غرض کہ اس مشینی ترقی اور تہذیب و تمدن کے دور میں بھی صفہ اور اصحاب صفہ کے زندگی کی یاد دلانے والی ایک مثال یہاں موجود ہے اور علوم نبوی کے شیدائی اور دین حنیف کے خادم اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ خدا وندکریم اپنے فضل وکرم سے ان تما م تکلیف کو دور فرمادے اور محنت و مشقت سے لگایا ہوا یہ پودا روز افزوں پرورش پائے ۔آمین (۲)
احقر صدیق احمد باندویؔ
خادم جامعہ عربیہ ہتورا ،باندہ

جواب دیں